اردو کے رنگ ـ سب رنگ

سوئے سوئے

ہفتہ پہلے میرا خیال تھا کہ اگر جی پی ایس کوئی غلطی کرے تو وہ دراصل آپ کی اپنی غلطی ہوتی ہے۔ بات بڑی چھوٹی سی ہے۔ میں نیچے والے انکل کو لے کر نیو ورک ائیر پورٹ جانا تھا۔ جی پی ایس میں ڈال دیا لوگارڈیا کا ایڈریس۔ اب بھلے لوگوں نے مجھے لنکن ٹنل سے باہر دھکہ دیا بھی مگر ہم لوٹ کے بدھو واپس 33 سٹریٹ پر۔ خیر وقت پر تو پہنچا دیا پر انکل کا بھی ٹیکساس دل نہیں لگا۔ آج واپس آ گئے ہیں۔

مورل آف دی سٹوری۔ ایک ٹرپ پر دو دفعہ کا ٹول دینا پڑا۔

پھر دوسرے ہی دن میرا خیال تبدیل ہو گیا۔ میں بڑے مزے سے رات کو کھلم کھلی سڑک پر گاڑی دوڑاتا واپس آیا۔ اب جی پی ایس کہے کیپ لیفٹ۔ میں نے بھی 7 ہائی وے پر اشارے کے بعد لیفٹ لین لے لی۔ وہ آن کمنگ ٹریفک کی تھی۔ اگلے نے مجھے بچا لیا نہیں تو میں تو اوپر گیا تھا۔ پھر ہیزرڈ آن کر کے اس سے اگلی گاڑی وک بھی نکال کر فوری یو مار کر پھر واپس یو مارے۔

مورل آف دی سٹوری۔ نشہ بغیر نشہ کئے بھی ہو جاتا ہے۔

اسی پر کیا موقوف اس سے اگلی رات بھی سیر سپاٹا کرتا جا رہا تھا۔ ایک کالے نے اشارے بھی کئے لیکن میں نے کہا "ہونہہ" کالا" اور بس۔ پھر سوچا یار اچھی سڑک ہے کوئی اشارہ ہی نہیں۔ اگلے چوک پر جب گاڑی پھر سے سامنے سے آتی نظر آئی تو ساے طوطے مینائیں پھر کر گئیں۔ ایک بھلے بندے نے ہارن مار مار کر مجھے نکلوایا اور بس تب سے میں کسی بھی سڑک پر مڑنے سے پہلے اتنا ویٹ کرتا ہوں کہ میرے سے پچھلے بندے کا اشارہ بند ہو جاتا ہے۔

مورل آف دی سٹوری۔ میں کسی بھی وقت "غائب" ہو سکتا ہوں سب لوگ ایک ایک ڈالر نکال کر میرا صدقہ دے کر ثواب دارین و آخرین حاصل کریں۔

Similar Posts:
    None Found

ShareThis

Random Posts

خفگی نامہ

اگر میں اس مہینے کے شروع میں 'یہ مہینہ کیسا گزرے گا' یا 'ستاروں کے مطابق' قسم کی کوئی پیش گوئی پڑھتی تو مجھے یقین ہے میرے سٹار میں کچھ ایسا لکھا ہوتا۔ 'یہ مہینہ خفگی سے بھرپور ہو گا۔ قریبی لوگوں کی ناراضگی کا شدید اندیشہ  ہے۔ مہینے کے آخر تک حالات میں مزید ابتری کی طرف جا سکتے ہیں' وغیرہ وغیرہ۔ اور میرے ساتھ بعینہ کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے :quiet:

"تمہارے ماموں کا فون آیا تھا۔ تم نے کتنے دنوں سے ان سے بات نہیں کی؟ ابھی فون کرو اور ویک اینڈ پر ان لوگوں کی طرف چکر لگا لو۔" بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان جملوں پر اکتفا نہیں کیا میری والدہ نے بلکہ ساتھ ٹھیک ٹھاک ڈانٹ سے بھی تواضع ہوئی۔ :cry:

"تم کہاں غائب ہو۔ نہ کوئی فون، نہ ٹیکسٹ، نہ ای- میل۔ اتنی لاپرواہ تو نہیں تھیں تم، دس دفعہ کال کرو تو ایک بار جواب ملتا ہے۔۔۔۔۔میں تم سے شدید ناراض ہوں۔" اس قسم کی باتیں مجھے آج کل تواتر سے سننے کو مل رہی ہیں۔ اب تو میں شرمندہ ہو ہو کر بھی تھک گئی ہوں۔  :sh حالانکہ میں باقاعدگی سے سب کی خیر خبر رکھتی ہوں۔ اگر کسی وجہ سے کسی کا فون سن نہ سکوں تو پہلی فرصت میں جواب دیتی ہوں۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے واقعی ایسا ہو رہا ہے۔ وجہ بھی کچھ خاص نہیں سوائے تھوڑی سی مصروفیت کے۔ بہرحال شکر ہے کہ نومبر ختم ہو رہا ہے اور سب کی خفگیاں بھی :)

ان ناراضگیوں کے بارے میں سوچتے سوچتے مجھے احساس ہوا کہ میں خود بھی ان دنوں ہر وقت خفا ہونے کی کوشش میں رہتی ہوں۔روزانہ ہی اتنی باتیں مل جاتی ہیں ناراض ہونے کو۔

صبح جاگو تو موسم دیکھ کر خود بخود موڈ آف ہو جاتا ہے۔ ہر وقت بارش یا گہرے بادل چھائے رہتے ہیں۔ اور اکثر شام سے پہلے ہی شام ہو جاتی ہے۔ سب کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔

پاکستانی چینلز آن کرو تو بریکنگ نیوز دیکھ کر خفا ہونا پڑتا ہے۔ اچھا خاصا پروگرام چل رہا ہوتا ہے اور کئی بار تو خبروں میں ہی بریکنگ نیوز یا نیوز الرٹ اڑتا ہوا آتا ہے کہیں سے۔۔اور خبر ہوتی ہے 'وزیرِ اعظم جلسے کے پنڈال میں پہنچ گئے۔ اب وہ سٹیج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ :o '

اس خفگی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب اچھا خاصا کام کرتے کرتے موذیلا فائر فاکس کا موڈ آف ہو جاتا ہے اور زرداری انکل کی طرح دھڑلے سے آگے بڑھنے سے انکار ہو جاتا ہے۔ اور میں مسلم لیگ ن کی طرح انتظار ہی کرتی رہ جاتی ہوں۔ جب سے میں نے Kaspersky انسٹال کیا ہے۔ فائر فاکس میں جی میل اور دوسری کچھ سائٹس اتنا مسئلہ کر رہی ہیں۔ بھائی بھی مصروف ہے اور اس بات پر میں پھر خود سے خفا ہو جاتی ہوں کہ میں اتنی نالائق کیوں ہوں۔ کچھ سیکھ لیا ہوتا تو اپنے ہی کام آتا :blush:

اور اب آج کی آخری اور سب سے بڑی ناراضگی اپنے بلاگ سے ہے۔ پتہ نہیں کیا ہوا کہ میرے بلاگ سے Recent Commentsاور Recent Track Backs سب غائب ہو گئے۔ اس کی وجہ بھی میرا ہی کوئی کارنامہ ہو گا شاید۔ اور اب ان کو کیسے واپس لانا ہے یہ مجھے معلوم نہیں۔ اس لئے یہ ناراضگی بھی میری اپنی طرف ہی ری ڈائریکٹ ہو رہی ہے :-s

میں سوچ رہی ہوں کہ میں وہ گانا ڈھونڈ کر اپنی voice mail میں ریکارڈ کر لوں اور خود بھی سارا دن سنتی رہا کروں۔۔ ' کسی بات پر میں کسی سے خفا ہوں۔۔۔میں زندہ ہوں پر زندگی سے خفا ہوں۔ :lashbtng '

Thalassemia patients appeal for financial assistance

Courtesy by: Daily Times

By Zakir Hassnain

PESHAWAR: With her eyes filled with tears, 11-year-old Fatima, a thalassemia patient, said her elder sister Samina was also a thalassemia patient and died of the same disease, leaving sweet memories behind with the family remembers.

Fatima and her younger sister Aiman came to Peshawar Press Club on Wednesday along with their parents to create awareness among people about this lethal disease and appealed to the provincial government to give financial assistance to Hamza Foundation she was getting treatment from.

A sizeable number of children and their parents who assembled at the press club, also appealed to donor organisations and philanthropists to come forward and save lives of thousands of children suffering from thalassemia.

"Samina died two months ago of thalassemia when she was 18," Fatima told Daily Times with tears trickling down her cheeks. Fatima, a class 5 student, said Samina had done a nursing course and was voluntarily working for Hamza Foundation. "We all miss her," she said sobbing.

Wakil Jan, father of Shah Masood, 6, and Hamaad Khan,3, said Masood and Hamaad were thalassemia patients by birth. "I bring them to Peshawar from village after every 2/3 weeks for blood transfusion," he said.

Muhammad Wali Khan, a father who had come from Malakand, said his wife was his cousin and that was possibly the reason that Haizar Ali, 9 months, and Haizar's two sisters Anita and Shawaal were thalassemia patients.

"Blood transfusion takes place every 15/20 days at the Foundation in Peshawar," he said. Wali said if the Hamza Foundation ran out of funds and it closed down, the lives of their children could be in danger.

Thalassemia is a killer disease in which a child suffering from it cannot survive unless he gets blood transfusion after every 15/20 days.

According to an estimate, around 5,000 children are born with thalassemia in Pakistan, mostly in the NWFP.

Ali Gul, who was representing parents and whose two sons were thalassemia patients, said Hamza Foundation was the only welfare organisation in the province that was looking after these unfortunate children. "The Foundation is getting no financial support from the government and is running on donations," said Gul. Gul who also works for the Foundation, said the Foundation had 525 registered patients and was spending around Rs 400,000 to 500,000 per month on their blood transfusion and other expenditures.

"We, the parents of children, are here today to draw the attention of the government, donor organisations and philanthropists that if the Foundation closes down because of lack of funds or any other reason, our children will die," said Ali Gul.

Quite a lot of mothers in burqas were present in the press club hall. Some were holding their newborn babies suffering from the deadly disease. Small children holding placards inscribed with slogans of financial assistance posed for photojournalists and the electronic media.

Share/Save/Bookmark

کس کا مستقبل روشن؟

مندرجہ ذیل دو عالمی واقعات پر غور کیجیے اور فیصلہ کیجیے کس کا مستقبل تابناک ہے۔

امریکہ کی آٹو انڈسٹری آجکل معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے اور اس کی تپش ہم اپنی فیکٹری میں بھی محسوس کر رہے ہیں۔ آٹو انڈسٹری کا بحران اتنا شدید ہے کہ فورڈ، جنرل موٹرز اور کرائسلر کے چیف کیپیٹل ہل کے دورے پر ہیں جہاں وہ سینٹ کمیٹی کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں اس وقت حکومتی سرمائے کی شدید ضرورت ہے۔ جنرل موٹرز کے پاس اس وقت صرف چند ماہ کا کیش بچا ہوا ہے، فورڈ موٹر کمپنی صرف اگلے سال تک اپنے اخراجات برداشت کر سکے گی۔

کل کی میٹنگ میں سینٹ کمیٹي نے ان لوگوں کو انتہائی سخت ٹائم دیا۔ حتی کہ ان کے اس دورے کیلیے ذاتی جہازوں پر سفر کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ سینیٹروں نے ان سے مستقبل کے پلانز کا پوچھا اور انہیں واضح کر دیا کہ وہ موجودہ سیٹ اپ کیساتھ انہیں پیسہ نہیں دیں گے کیونکہ یہ سیٹ اپ فیل ہو چکا ہے۔

آج کی خبر یہ ہے کہ سینٹ کمیٹي نے تینوں کمپنیوں کو فوری رقم دینے سے انکار کر دیا ہے اور اس معاملے کو دسمبر تک ملتوی کر دیا ہے۔ حالانکہ حکومت کو معلوم ہے اگر یہ تینوں آٹو کمپنیاں بنک کرپٹ ہو گئیں تو ہر دسواں امریکی اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اس کے باوجود عوامی نمائندے جلد بازی کی بجائے سوچ بچار کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ اکثریت کا خیال ہے کہ پہلے تینوں آٹو کمپنیاں اپنا موجودہ سیٹ درست کریں، اپنے ناکام سربراہوں کے تبدیل کریں اور ایک کامیاب پلان ان کو پیش کریں جو قابل عمل ہو تب انہیں سرکاری پیسہ ملے گا۔

دوسری طرف پاکستان نے آئی ایم ایف سے نو دس بلین ڈالر قرض لیا مگر عوامی نمائندوں کو ہوا تک نہیں لگنے دی۔ بلکہ عوامی نمائندوں نے بھی اس پر احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس میں اس پر بحث ہوئی ہے۔ اتنی بڑی رقم قرض لینا اور صرف ایک آدمی کے رحم و کرم پر ملک کو چھوڑ دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوامی نمائندے حکومت سے پوچھتے کہ جو قرض منظور ہوا ہے وہ کہاں خرچ ہو گا اور اس کی ادائیگی کیلیے رقم کہاں سے آئے گی۔ اگر تو قرضہ صنعت لگانے کی بجائے صرف حکومتی اخراجات چلانے کیلیے لیا گیا ہے جس کا امکان زیادہ ہے تو پھر یہ جلد ہی ختم ہو جائے گا اور اس کی ادائیگی کیلیے عوام پر مزید ٹیکس لگا دیے جائیں گے جو اچھی بات نہیں ہے۔

اب آپ فیصلہ کریں کہ کون اپنے ملک کیلیے مخلص ہے؟

امریکی جرگہ

کہتے ہیں دو امور انجام دیتے وقت آپ کو امریکی شہری ہونے کا احساس ہوتا ہے، ایک رائے دہی کا حق استعمال کر کے اور دوسرا منصفی کے فرائض انجام دے کر ۔پچھلے مہینے یکے بعد دیگرے ان دونوں امور سے میرا واسطہ رہا ۔
فرائض منصفی یا عرف عام جیوری ڈیوٹی کی امریکی  انصاف میں کلیدی حثیت  ہے، لیکن اچنبھا تب ہوتا ہے، جب عدالت کی طرف سے آپ کو طلبی کا پروانہ آنا ہے اور آپ اپنے اردگرد جاننے ولے لوگوں سے اس بارے استفسار کریں، تو کوئی درست معلومات نہیں ملتی، لیکن سب ملی معلومات سے آپ ایک نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں، کہ عدالت میں مقدمہ پر دونوں طرف فریقین کے دلائل اور ثبوت دیکھ اور سن کر آپ کو فیصلہ سنانا ہوتا ہے، اور عموماً مقدمہ ایک ہفتہ کے اندر ختم ہو جاتا ہے جو غلط نہیں  لیکن نا مکمل ہے ۔ امریکہ میں دو مختلف قسم کی جیوری عدالتی امور میں فرائض انجام دیتی ہیں ۔

گرینڈ جیوری کا کمرہ

پیٹٹ یا ٹرائل جیوری ۔
یہ وہ جیوری ہے جس کا ذکر شروع میں کیا تھا،یا ایک عام شخص کے ذہن میں عدالت کا جو تصور ہوتا ہے، جس میں ایک جج، دو وکیل، ملزم، گواہ، پولیس اور ثبوت اور ان کے متعلق مباحث اور دلائل موجود ہوتے ہیں، یہ جیوری نیویارک میں نو سے بارہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے، جو سب دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہیں، جس کی روشنی میں جج سزا یا رہا کرنے کا فیصلہ سناتا ہے ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ معصوم یا مجرم کا فیصلہ جیوری کرتی ہے نا کہ جج، اور فیصلے کو جج نہیں بدل سکتا، جج قانون کے مطابق اس پر سزا سناتا ہے ۔اور انصاف کے مراحل میں یہ سب سے آخری مرحلہ ہوتا ہے ۔ٹرائیل جیوری صرف ایک مقدمہ سنتی ہے، اور عموماً چار سے پانچ دن میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جاتی ہے ۔

گرینڈ جیوری ۔
نیویارک میں گرینڈ جیوری 23 افراد پر مشتمل ہوتی ہے، اور کسی فیصلے پر پہنچنے کے لئے 12 افراد کی حمایت درکار ہوتی ہے، جبکہ کسی بھی مقدمہ پر کم از کم 16 افراد کا موجود ہونا لازمی ہے ۔
ٹرائل جیوری کے برعکس گرینڈ جیوری میں جج، وکیلِ صفائی اور زیادہ تر مقدمات میں ملزم موجود نہیں ہوتا ۔ یہ انصاف کا دوسرا مرحلہ ہے، سب سے پہلے پولیس کسی شخص کو گرفتار کرتی ہے، یا اس کے خلاف ثبوت تیار کرتی ہے، جسے ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس میں بھیجا جاتا ہے، ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس اس مقدمہ پر ایک وکیل کے فرائض لگاتا ہے، جسے پراسیکیوٹر کہتے ہیں ۔ یہ پراسیکیوٹر مقدمہ گرینڈ جیوری کے سامنے پیش کرتا ہے، مقدمہ میں ثبوت اور گواہان اور پولیس افسران جنہوں نے مقدمہ تیار کیا ہے، جیوری کے سامنے پیش ہوتے ہیں ۔ گرینڈ جیوری نہ صرف ان سب کے دلائل اور ثبوت سنتی ہے، بلکہ سوالات پوچھ سکتی ہے، کسی ابہام کی صورت میں مزید گواہوں کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود گرینڈ جیوری مقدمہ میں کسی کو بری یا مجرم نامزد نہیں کر سکتی، بلکہ تمام مہیا کردہ ثبوتوں کی روشنی میں اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آیا مقدمہ اس قابل ہے کہ اسے عدالت میں پیش کیا جائے، جہاں پھر ٹرائل جیوری دونوں فریقین کا نکتہ نظر سنے گی ۔ یا پھر مقدمہ کو رد کر دیا جائے، گرینڈ جیوری سے رد کیا جانے والا مقدمہ عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا، اور اگر کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہو، تو وہ اسی وقت آزاد اور اس پر لگائے الزامات واپس لے لئے جاتے ہیں ۔ گرینڈ جیوری ایک مہینے تک فرائض انجام دیتی ہے، اور اس دوران مختلف مقدمات پر شواہد اور ثبوت دیکھتی ہے ۔

جیورر یا منصف بننے کے مرحلے کا آغاز ایک عدد خط سے ہوتا ہے، جو آپ کو جس ریاست میں آپ میں رہائش پذیر ہیں کے محکمہ انصاف کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے، یہ ایک عام سا خط ہوتا ہے لیکن پندرہ دن کے اندر اس کا جواب دینا لازم ہے، اس خط کے جواب میں آپ اپنی معلومات لکھتے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ آیا آپ جیوری ڈیوٹی انجام دینا چاہتے ہیں کہ نہیں؟ اور اگر نہیں تو کیوں، وجوہات میں امریکی شہری نہیں، انگریزی بول اور سمجھ نہیں سکتا، یہ انکار کی سب سے سہل وجوہات ہیں، اگر آپ پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا تو پھر آپ دیگر وجوہات کے خانہ میں اپنی معذوری کی وجہ بیان کر سکتے ہیں، جیسے ایک ماں جس پر ۱۲ سال سے کم عمر کے بچوں کی ذمہ داری ہے اس سے مستثنیٰ ہے ۔ مجھے پچھلے پانچ سال سے یہ خطوط آ رہے تھے، پہلے میں امریکی شہری نہیں تھا، بہت سے دیسی دوسری ترجیع کا استعمال بھی کرتے ہیں، لیکن اب یہ اتنی قابل قبول نہیں کہ امریکی شہری بننے کی ایک شرط انگریزی بھی ہے ۔

میرا جیورر کارڈ
یہ کرنے کے بعد آپ جب سب کچھ بھول جاتے ہیں، تو ایک عدد خط اور آ جاتا ہے، لیکن یہ طلبی کا پروانہ ہوتا، جس میں اپنے علاقے کی سپریم کورٹ میں کمشنر آف جیوررز کے آفس میں بقلم خود جانا ہوتا، اس کے لئے بھی آپ کے پاس پندرہ دن ہوتے ہیں ۔وہاں ایک دفعہ پھر آپ اپنی معلومات دیتے ہیں، اور اگر جیوری ڈیوٹی نہیں کر سکتے تو اپنا عذر پیش کرتے ہیں ۔
تیسرے مرحلہ میں پکے وارنٹ مطلب عدالت کی طرف سے طلبی کا نوٹس آتا ہے، جہاں پر دن، وقت اور مقام بتایا گیا ہوتا ہے، اور آپ کس قسم کی جیوری میں فرائض انجام دیں گے لکھا ہوتا ہے ۔
مقررہ دن حاضر ہونے پر، عدالتی عملہ آپ کو خوش آمدید کہتا ہے، میرے ساتھ 150 افراد اور لوگ بھی موجود تھے، سب لوگوں کے آ جانے پر ایک جج فرائض ادا کرنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور گرینڈ جیوری کے متعلق ابتدائی معلومات دیتا ہے، اور پھر جیوری کا چناو کرتا ہے ۔ ہم 150 لوگوں میں سے چھ عدد جیوررز کے پینل بنائے گئے، ہر پینل 23 افراد پر مشتمل تھا، یعنی 12 افراد کو پینل میں نہیں چنا گیا، یہ اضافی لوگ، کسی کے نہ آنے کی صورت میں بلوائے جاتے ہیں ۔چناؤ کے لئے سب کے نام ایک ڈبے میں ڈال کر، باری باری ایک ایک نام نکالا جاتا ہے ۔ ہر پینل باری باری ایک مہینہ تک فرائض انجام دیتا ہے ۔ اس کے بعد جس پینل میں آپ کا انتخاب ہوا ہو، اس کی مقرر کردہ تاریخ پر آپ کو واپس عدالت جانا ہونا ہے ۔
مقررہ تاریخ کو پہلا دن تو صرف ویڈیوز دیکھتے، گزر جاتا ہے، اس کے علاوہ کمشنر آف جیوررز آپ کو فرائض کے بارے میں بتاتا ہے، اور اسکی اہمیت کو انصاف کے حصول کے لئے اجاگر کرتا ہے، ساتھ میں آپ کو ایک عدد کتابچہ فراہم کیا جاتا ہے، جس میں وہی باتیں دوبارہ لکھی ہوتی ہیں ۔
اصل کام اگلے دن سے شروع ہوتا ہے، پراسیکیوٹر، ایک عدد سٹینوگرافر کے ساتھ وارد ہوتا ہے، اور اپنا کیس پیش کرتا ہے، اس کے بعد گواہان کو ایک ایک کر کے سامنے لایا جاتا ہے، جیوری سب کو سنتی ہے، ان کے بیانات کا موازنہ کرتی ہے، مزید سوالات پوچھتی ہے، اور اگر پھر بھی کچھ واضح نہ ہو تو مزید گواہ طلب کر سکتی ہے، لیکن ایسا کرنے کے لئے 12 افراد کی حمایت ہونا لازمی ہے ۔ ایک اور بات جو گرینڈ جیوری میں ہے، فرض کریں پہلا پراسیکیوٹر پہلا مقدمہ لاتا ہے، اور ساتھ ایک گواہ پہلے دن پیش کرتا ہے، لیکن ہو سکتا ہے مقدمہ میں دوسرا گواہ ایک، یا دو ہفتہ بعد آئے، تو مقدمات کو گڈمڈ کرنے کی بجائے گرینڈ جیورر ہر مقدمے کے نوٹس تیار کرتے ہیں، ایک مقدمہ پر تمام ثبوت مکمل ہونے پر، پراسیکیوٹر جیوری سے ووٹنگ کی درخواست کرتا ہے، لیکن جب جیوری ووٹنگ کے مرحلہ میں ہو، تو سوا جیوری کے کسی بھی فرد کو جیوری کے کمرہ میں موجود ہونے کی اجازت نہیں، یہاں سب جیوررز بحث کرتے ہیں، پھر ووٹ دے کر کہ مقدمہ کو آگے بھیجا جائے یا یہیں خارج کر دیا کا فیصلہ کرتے ہیں ۔
اس ایک مہینے میں ہمارے پینل نے 81 مقدمات سنے، اور اسی معاشرے میں رہتے ہوئے جو تصویر آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے، کا بغور مشاہدہ کیا ۔جب آپ جیوری روم میں بیٹھے ہوتے ہیں تو اکثر اوقات منظر جذباتی ہوتا ہے، مثلاً ایک مقدمہ ہمارے پاس آیا جس میں ایک لڑکی جب نو سال کی تھی، تب سے اس کا باپ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا، اور اس وقت اسکی عمر 17 سال تھی ۔ اس مقدمہ سے پہلے میں سوچتا تھا کہ جن خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ عدالت کا رخ کیوں نہیں کرتی ہیں؟ اور جواب مقدمہ دیکھ کر مل گیا، کہ انہیں دہری تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ بہت اچھا تجربہ تھا، جہاں آپ کو محسوس ہوتا ہے، کہ ملک کی اصل طاقت عوام کے ہاتھ میں ہے ۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یوم اطفال منایا جا رہا ہے

بچوں میں امراض کی بنیادی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے: قاضی ایم اے خالد

دنیا بھر میں پچاس لاکھ بچے ہرسال مختلف امراض کا شکار ہوکر ہلاک ہوجاتے ہیں

ماحولیاتی آلودگی سے ملیریا ‘اسہال’ہیضہ ‘یرقان خصوصاًہیپاٹایٹس اور دیگرامراض میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

پینے کے پانی اور ماحو ل کی آلودگی دور کرکے ہم بیشتر امراض سے بچ سکتے ہیں

ملک کی 76فیصد آبادی طب یونانی کے معالجین کی خدمات سے مستفید ہورہی ہے: کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

      لاہور(نما ئندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا )بچوں کے حقوق کے تحفظ ‘تعلیم’فلاح و بہبود اور ان کی صحت و امراض کے حوالے سے شعور و آگاہی کے جذبے کے ساتھ پاکستان سمیت دنیا بھر میںبچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔ بچوں میں سانس کی تکالیف اور دیگر امراض کی بنیادی وجہ فضائی آلودگی ہے ہرسال پانچ سال سے کم عمر کے دو ملین بچے سانس کی امراض سے ہلاک ہو جاتے ہیںجبکہ سینے کی انفیکشن ٹریفک کے دھوئیں میں شامل کاربن مونو آکسائیڈاور سیسے وغیرہ کی کثافت سے وقوع پذیر ہورہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 14سال تک کی عمر کے پچاس لاکھ بچے ہرسال مختلف امراض کا شکار ہوکر ہلاک ہوجاتے ہیں یہ ننھے پھول خاص طور پر ملیریا ‘ہیضہ’اسہال اور سانس کی بیماریوںمیں مبتلاء ہوتے ہیں جس کی بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے ۔ان باتوں کا اظہار یونانی میڈیکل آفیسر اور مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان حکیم قاضی ایم اے خالد نے عالمی یوم اطفال کے حوالے سے ملکی و غیرملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں ملیریا ‘اسہال’ہیضہ ‘یرقان خصوصاًہیپاٹایٹس بی اور سی وغیرہ کی شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے تدارک کی سب سے بہتر صورت پینے کے پانی اور ماحو ل کی آلودگی کو دور کرناہے۔ سڑکوں کے کنارے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر’ہسپتالوں کا کچرا ‘سرنجیں’استعمال شدہ بوتلیں’مضرِصحت کیمیائی کچرا’کارخانوں سے خارج ہونے والا مہلک دھواںاور زہریلی گیسوں وغیرہ سے بچے مختلف امراض خاص طور پر سانس کی بیماریوں اورجِلدی شکایات میں مبتلاء ہوجاتے ہیںاکثر بچو ں کامعمولی نزلہ زکام بگڑکر شدید کھانسی’دمے اور نمونئے کا باعث بن جاتا ہے۔ معالجین کا کا م صرف علاج کرنا ہی نہیںبلکہ عوام میں شعورِصحت بیدار کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور دیگر عالمی و قومی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ملک کی76فیصد آبادی طب مشرقی(اسلامی)کے معالجین کی خدمات سے مستفید ہورہی ہے اس سلسلے میں یہ معالجین بچوں کیلئے محفوظ ماحول کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ان کی خدمات سے استفادہ حکومت کابھی اولیں فرض ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے شعور پیداکرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے تبھی ہم اپنے بچوں کو مستقبل کی خوبصورت زندگی فراہم کرسکتے ہیں۔

آیت مصطفے

چھبیس آگست دوهزار آٹھ کو
ایت مصطفے کی میں پیڈائیش کے بعد آیت مصطفے کی پرورش کی مصروفیت کی وجه سے
نیٹ کو صرف پڑھنے کی حد تک هی استعمال کررها هوں

آیت مصطفے

ہولی کاؤ

اصل فقرہ اتنا 'ہولی' نہیں ہے، اچانک کوئی عجیب چیز دیکھ کر عام طور پر امریکیوں کا رد عمل اسی طرح کا ہوتا ہے۔ گائے کا استعمال البتہ محدود ہے، گوبر اور اس سے ملحقہ اعضاء بکثرت استعمال کیے جاتے ہیں آگے آپ سمجھدار ہیں۔ یونہی انٹرنیٹ گردی کرتے ہوئے پاک فیکٹ کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی تو ہمارے دہن سے بھی دو لفظی حیرانگی ٹپک پڑی۔
عموماَ نئے لکھنے والے بلاگرز کو پرانے لکھاری مشورہ دیتے ہیں کہ اول تو دوسروں کی تحریروں کے ریفرنس سے کام چلائیں اور اگر مکمل مضمون کا 'چھاپا' ضروری ہو تو ماخذ کی پوری تفصیل ضرور لکھیں، لیکن صاحب یہاں تو قیمت سات روپے روزانہ چھپنے والے اخبارات کی 'جسارت' کا یہ حال ہے کہ پورا مضمون 'صحافتی' آزادی کی صریح تشریح۔ کیا آپ کو بی بی سی کا حوالہ نظر آیا؟ یا جو کچھ انٹرنیٹ پر ہے مال غنیمت ہے؟

حقوق انسانی ۔ ماضی اور حال

رومی صاحب نے ایک اچھا نظریہ پیش کیا ہے کہ انسانیت کے تحفظ کے لئے کام کیا جائے ۔ امید ہے قارئین رومی صاحب کے منصوبے کواپنی ذاتی کاوشوں سے عملی جامہ پہنائیں گے اور اسے اس پیرائے میں نہیں لیں گے جس میں آجکل اسی طرح کے اعلانات کو لیا جاتا ہے جو کھوکھلے نعرے اور ٹی پارٹی یا ڈنر کے سوا کچھ نہیں ہوتے

ہمارے موجودہ معاشرہ کو دیکھا جائے تو سائینس کا یہ اصول سامنے آتا ہے کہ جس چیز پر زیادہ زور ڈالا جائے وہ ٹوٹ جاتی ہے ۔ میرے خیال میں اس اصول کا اطلاق ہر عمل پر ہوتا ہے ۔ دور حاضر میں انسانی حقوق اور ان کی حفاظت پر اتنا زور ڈالا گیا ہے کہ انسانیت کا جنازہ ہی نکل گیا ہے ۔ اسے اعتراض نہ سمجھئے گا میں صرف وضاحت کی کوشش کر رہا ہوں ۔

دنیا کی ترقی کے ساتھ علم وسیع ہوا اور اس کی ان گنت شاخیں بن گئیں ۔ پہلے ناک کان اور گلے کی بیماریوں کا
ایک ہی طبیب ہوتا تھا تو مریض جلدی فارغ ہو جاتا تھا ۔ پھر ہر ایک کا الگ یعنی تین طبیب ہو گئے اور مریض کو دو یا تین گنا وقت دینا پڑا ۔ سنا ہے کہ اب ناک کے بائیں حصے کا الگ ہے اور داہنے حصے کا الگ ۔ :lol:

آپ سوچ رہے ہونگے کہ کیا الا بلا لکھ رہا ہوں ۔ محترم ۔ بات یہ ہے کہ دور حاضر کا انسان ستائشی ہے اور دور حاضر کے اجارہ داروں نے انسانیت کی بھی متعدد تعریفیں بنا دیں ہیں ۔ اسی لئے رومی صاحب کو لکھنا پڑا

“ہم صرف انسانوں کا ہی نہیں ، جانوروں ، بے جان اشیا اور پودوں کا بھی تحفظ چاہتے ہیں”

دد اصل ۔ انسان ہوتا ہی وہ ہے جو ہر جاندار اور بے جان کے حقوق کی حفاظت ذاتی خواہشات پر مقدم رکھتا ہے ۔ اسی کا نام ہے تحفظ حقوق انسانی ۔

جب میں بچہ تھا اس زمانہ میں اگر چیونٹیاں زمین پر چلتی نظر آ جائیں تو ہمارے بزرگوں میں سے کوئی کہتا کہ ایک چٹکی آٹا لے کر چیونٹیوں کے قریب ڈال دو تاکہ انہیں خوراک کیلئے پشیماں نہ ہونا پڑے ۔ قریب ہر گھر کی چھت پر دو ڈبے یا رکابیاں لٹکی ہوتیں ایک میں دانہ یا چوگا اور دوسرے میں پانی تا کہ پرندے بھوکے پیاسے نہ رہیں ۔ علی ہذا القیاس ۔ اس زمانہ میں انسانی حقوق کا رولا نہیں تھا ۔ اب انسانی حقوق کا رولا ہر طرف ہے مگر چونٹیاں تو چونٹیاں انسانوں کو بھی روندا اور مسلا جا رہا ہے ۔

اردو بلاگ ایوارڈ

منظر نامہ کی طرف سے اردو بلاگ ایوارڈ کا اجراء بالاخر کر دیا گیا ہے، فی الوقت نامزدگی کے مراحل طے کر کے، ہر زمرے میں تین عدد بلاگزر کے نام تجویز کئے گئے ہیں، جن پر ووٹنگ کا مرحلہ جاری ہے ۔ اگر آپ اردو بلاگران حضرات و خواتین کے بلاگ پڑھتے ہیں تو ووٹنگ میں اپنا حصہ ڈال کر ان کی حوصلہ افزائی کریں ۔
علاوہ دیگر اردو بلاگران سے گذارش ہے کہ اپنے بلاگ پر اس کی تشہیر کریں، تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ووٹنگ میں اپنا حصہ ڈال سکیں ، میں نے ایک عدد گرافک تیار کی ہے، جو ذیل میں موجود ہے، پسند کے سائز والے بینر کے نیچے دیے گئے کوڈ کو کاپی کر کے آپ اپنے بلاگ پر لگا سکتے ہیں ۔

vote

<a href="https://survey.mamut.com/s;jsessionid=847E63E4806779E9CD14EAAA37D2BFED?s=10408"><img src="http://farm4.static.flickr.com/3219/3044207694_3e443de02c_o.png" alt="ووٹ دیجیئے" /></a>

vote

<a href="https://survey.mamut.com/s;jsessionid=847E63E4806779E9CD14EAAA37D2BFED?s=10408"><img src="http://farm4.static.flickr.com/3249/3043376743_cebf3a26f9_o.png" alt="ووٹ دیجیئے" /></a>

بجلی چور


گلوبل دنیا اور بین الاقوامی بنیے

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ میڈیا اور ٹرانسپورٹ نے دنیا کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ اب آپ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں ایک دن میں پہنچ جاتے ہیں اور میڈیا آپ کو دنیا کے کونے کونے سے منٹ منٹ کی خبریں پہنچا رہا ہے۔ اتنی ترقی کیساتھ ساتھ لوگوں کو غلام بنانے کا رواج بھی بین الاقوامی سرحدیں عبور کر چکا ہے۔

پہلے لوگ جسمانی غلام بنایا کرتے تھے پھر بنیے میدان میں آگئے اور انہوں نے لوگوں کو معاشی طور پر غلام بنانا شروع کر دیا۔ لوگ تب بھی بیوقوف تھے اور اب بھی بیوقوف ہیں۔ تب لوگ اپنی زمینیں رہن رکھ اپنے بال بچوں کی شادیوں، مقدموں اور پیشیوں جیسے غیرترقیاتی اخراجات کیلیے رقم ادھار لیا کرتے تھے۔ اب حکومتیں اپنے لوگوں کو غلام رکھ کر غیرترقیاتی اخراجات کیلیے قرضے لیتی ہیں۔ پہلے ہر گاؤں میں ایک آدھ بنیا ہوا کرتا تھا اب دنیا میں ایک آدھ بنیا ہے جسے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کا نام دیا گیا ہے۔

یہ بنیا بھی ترقیاتی اخراجات کی بجائے غیرترقیاتی اخراجات کیلیے قرضے دینا پسند کرتا ہے۔ اسےصرف اپنے سرمائے کی فکر ہوتی ہے اور اس بات کی پرواہ نہیں کہ قرضہ لینے والے ملک کے عوام پر کیا گزرے گی۔ حکومتیں اس بنیے کیلیے کام کرتی ہیں یعنی وہ قرضے لینے اور ان کی بمع سود واپسی کی ضمانت دیتی ہیں۔

شاہراہوں پر ٹول ٹیکس، اشیائے صرف پر جنرل سیلز ٹيکس، پراپرٹی ٹيکس، انکم ٹيکس، گاڑیوں کی خریدوفروخت پر ٹیکس اور اسی طرح کے دوسرے ٹیکس آئی ایم ایف کے قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلیے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ اس خدمت کے بدلے آئی ایم ایف کا بنیا سرکاری کارندوں کو کچھ عوامی ٹیکسوں کی رقم خرد برد کرنے کی اجازت بھی دے دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بنیے کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ملکوں میں کرپشن کتنی ہے اسے صرف اس بات سے سروکار ہے کہ حکومتیں کتنے زیادہ ٹیکس بڑھا کر اس کا سود ادا کرتی ہیں۔

اگر حکومتوں کی عوام سے ہمدردی یا مخلص پن دیکھنا ہو تو پھر یہ دیکھیے کہ انہوں نے اپنے دور میں کتنے غیرترقیاتی کاموں کیلیے قرضے لیے اور کتنے ترقیاتی کاموں کیلیے۔ اس فارمولے کی بنیاد پر موجودہ حکومت کی عوامی ہمدردی جانچنے کیلیے زیادہ تردد نہیں کرنا پڑے گا۔ حکومت نے پچھلے ہفتے جو قرضہ آئی ایم ایف سے لیا ہے وہ کسی ترقیاتی کام کیلیے نہیں لیا بلکہ سرکاری اخراجات چلانے کیلیے لیا ہے۔ آئی ایم ایف کو سود کی ادائیگی کی ضمانت کے طور پر حکومت نے مزید ٹیکس لگانے کا وعدہ کیا ہو گا۔ تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی اسی معاہدے کی ایک شق ہو گی۔ اس کے علاوہ بھی منافع بخش صنعتوں کی نجکاری بھی معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے۔

سرجی

آج کل میں پھر سر جی بنا ہوا ہوں۔ روزی روٹی کے لیے بننا پڑتا ہے۔ ایک سٹوڈنٹ بندہ اس کے علاوہ اور کسی طرح کما بھی نہیں سکتا۔ اور اللہ جھوٹ نہ بلوائے جتنا پیسا اس انڈسٹری یعنی ایجوکیشن انڈسٹری میں ہے اور کسی چیز میں نہیں۔ آپ کی سرمایہ کاری کی سوفیصد واپسی کی ضمانت کے ساتھ بے انتہا منافع کی گارنٹی ہر چیز موجود ہے اس فیلڈ میں۔

تو میں آج کل ٹیوشن پڑھا رہا ہوں۔ محلے کے ہی ایک دو بچے ہیں جو میرے پاس پڑھنے آتے ہیں۔ نالائق اتنے ہیں کہ بس حق ادا کردیتے ہیں اس صفت کا۔ بڑا بھائی دسویں میں ہے نویں کی دو عدد سپلیوں کے ساتھ، انگریزی اور ریاضی میں۔ اور میرے پاس ریاضی ہی پڑھتا ہے۔ ساتھ انگریزی کا بھی کبھی پوچھ لیتا ہے۔ آج کہنے لگا سرجی فیشن اور ڈریم پر پیرا گراف لکھ دیں گے؟

میں نے کہا کرنا کیا ہے کہتا پرچے میں ان میں سے ایک لازمی آجاتا ہے اس لیے یاد کرنے ہیں۔ میں نے کہا پائلٹ سپر ون سے کرلو تو بولا وہاں مشکل لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا مضامین کا کیا کرو گے تو بولا وہ سکول والے سر تین لکھ کر دے دیں گے جن میں سے ایک آجاتا ہے۔

پھر بولا کوئی خط نہیں مل سکتا جو سارے خطوں میں لکھا جاسکے۔ پندرہ خط ہیں، ایک لڑکے کے پاس ایسا خط تھا جو ہر مضمون پر پورا اترتا تھا اور اس نے انگریزی پاس بھی کرلی ہے۔

میں نے اس کی طرف دیکھا، سوچا اور پھر سر جھکا لیا۔۔ اور بولا ابھی تو نہیں لکھا لیکن دیکھتا ہوں شاید کسی سے مل جائے ایسا خط۔

یہ حقیقت ہے کہ بی اے تک ایسے ٹوٹکے چلتے ہیں۔ ایک خواب نامی مضمون میں ایکسیڈنٹ کو گھسیڑ کر دو مضمون بنا لیے جاتے ہیں۔ میں سڑک کے کنارے جارہا تھا کہ میں نے ایک بس کو آتے دیکھا۔ پھر ایکسیڈنٹ ہوا اور پھر آخر میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا پتا چلا یہ تو خواب تھا۔ اب اگر خواب والا آجائےتو سارا لکھ دو ورنہ آخری حصہ نکال دو۔ خط ایک ہوتا ہے، لیکن اس کا مضمون ایسا مبہم ہوتا ہے کہ پندرہ بیس عنوانات تلے آجاتا ہے۔ شاگرد خوش ہوجاتے ہیں، استاد کو پیسے مل جاتے ہیں اور پرچے بھی پاس ہوجاتے ہیں۔

اس سے مجھے اپنی بات یاد آگئی اگرچہ ہمارا حال اس لڑکےسے کچھ بہتر ہی تھا لیکن پیرے اور مضمون کا فرق نہ اس وقت پتا تھا نہ بی کام کرنے تک ہی پتا چلا۔ اب آکر پتا چلا ہے کہ پیرے کا مطلب ایک ہی پیرے میں سب لکھنا ہوتا ہے اور مضمون کئی پیروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پیرا کیسے لکھنا ہے، مضمون کیسے لکھنا ہے یہ یونیورسٹی میں آکر پتا چلا ہے، سٹڈی سکلز نامی ایک مضمون میں ورنہ ککھ بھی نہیں پتا تھا۔

ہمارا حال کیا ہے اور ہمارے مستقبل کا حال کیا ہے۔ اور ہم ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔

تجدید و احیائے دین

جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد

ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو

کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

اس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک!

ہے جس کے تصور میں فقط بزمِ شبانہ

لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدید

مشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ

حکیم الامت حضرت علامہ اقبال کئی دہائی قبل تجدید کے بارے میں یہ اشعار بیان کر گئے تھے جس میں جہاں تجدید کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے وہیں عالم اسلام میں، اُس وقت سے اب تک جاری، تجدید کے نعروں سے اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی کوششوں کو بے نقاب بھی کیا ہے۔ اس اہم اور نازک موضوع پر علامہ کے ہمعصر مصنف سید ابو الاعلٰی مودودی نے ایک کتاب تحریر کی جس کا نام “تجدید و احیائے دین” تھا۔ کتاب میں تجدیدِ دین، مجدّدین، دین کے احیاء کے کام، مجددین کے کارناموں کو مختصراً بیان کرنے کے علاوہ تجدید اور تجدّد کے فرق، مجدد کامل کے مقام اور امام مہدی کی حیثیت کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کتاب کی پہلی اشاعت کے بعد اس پر بہت اعتراضات کیے گئے اور ہر جانب سے سید مودودی کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ اسی سلسلے میں ماہنامہ ترجمان القرآن میں بھی کئی قارئین نے سوالات کیے جن کے دیے گئے جوابات کو اشاعت پنجم میں کتاب کا حصہ بنا دیا گیا۔

کتاب کے دیباچہ میں ہی سید مودودی نے کتاب کے مقاصد کو اس طرح واضح کیا ہے:

اسلام کی اصطلاحی زبان کے جو الفاظ کثرت سے زبان پر آتے ہیں ان میں سے ایک لفظ “مجدد” بھی ہے ۔ اس لفظ کا ایک مجمل مفہوم تو قریب قریب ہر شخص سمجھتا ہے ، یعنی یہ کہ جو شخص دین کو از سرِ نو زندہ اور تازہ کرے وہ مجدد ہے ۔ لیکن اس کے تفصیلی مفہوم کی طرف بہت کم ذہن منتقل ہوتے ہیں ۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ تجدیدِ دین کی حقیقت کیا ہے ، کس نوعیت کے کام کو “تجدید” سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ، اس کام کے کتنے شعبے ہیں ، مکمل تجدید کا اطلاق کس کارنامے پر ہو سکتا ہے اور جُزوی تجدید کیا ہوتی ہے ۔ اسی ناواقفیت کا نتیجہ ہے کہ لوگ ان مختلف بزرگوں کے کارناموں کی پوری طرح تشخیص نہیں کر سکتے جن کو تاریخ اسلام میں مجدد قرار دیا گیا ہے ۔ وہ بس اتنا جانتے ہیں کہ عمر ابن عبد العزیز بھی مجدد، امام غزالی بھی مجدد، ان تیمیہ بھی مجدد، شیخ احمد سرہندی بھی مجدد اور شاہ ولی اللہ بھی مجدد، مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ کون کس حیثیت سے مجدد ہے اور اس کا تجدیدی کارنامہ کس نوعیت اور کس مرتبہ کا ہے ۔ اس ذہول اور غفلت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جن ناموں کے ساتھ “حضرت”، “امام”، حجۃ الاسلام”، “قطب العارفین”، “زبدۃ السالکین” اور اسی قسم کے الفاظ لگ جاتے ہیں ان کی عقیدت مندی کا اتنا بوجھ دماغوں پر پڑ جاتا ہے کہ پھر کسی میں یہ طاقت نہیں رہتی کہ آزادی کے ساتھ ان کے کارناموں کا جائزہ لے کر ٹھیک ٹھیک مشخص کر سکے کہ کس نے اس تحریک کے لیے کتنا اور کیسا کام کیا ہے ، اور اس خدمت میں اس کا حصہ کس قدر ہے ۔ عموماً تحقیق کی نپی تُلی زبان کے بجائے ان بزرگوں کے کارنامے عقیدت کی شاعرانہ زبان میں بیان کیے جاتے ہیں جن سے پڑھنے والے پر یہ اثر پڑتا ہے ، اور شاید لکھنے والے کے ذہن میں بھی یہی ہوتا ہے کہ جس کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ فردِ کامل تھا اور اس نے جو کچھ بھی کیا وہ ہر حیثیت سے کمال کے آخری مرتبے پر پہنچا ہوا تھا۔ حالانکہ اگر اب ہم کو تحریکِ اسلامی کی تجدید و احیاء کے لیے کوئی کوشش کرنی ہے تو اس قسم کی عقیدت مندی اور اس ابہام و اجمال سے کچھ کام نہ چلے گا۔ ہم کو پوری طرح اس تجدید کے کام کو سمجھنا پڑے گا۔ اور اپنی پچھلی تاریخ کی طرف پلٹ کر دیکھنا ہوگا کہ ان بہت سی صدیوں میں ہمارے مختلف لیڈروں نے کتنا کتنا کام کس کس طرح کیا ہے ، ان کے کارناموں سے ہم کس حد تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، اور ان سے کیا کچھ چھوٹ گیا ہے جس کی تلافی پر اب ہمیں متوجہ ہونا چاہیے ۔

اس کتاب کو برقیانے کے سلسلے میں بھرپور مدد پر میں برادر خاور بلال کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے کتاب کے مواد کی کمپوزنگ کے علاوہ اس کے لیے یہ خوبصورت ٹائٹل بھی تیار کیا۔علاوہ ازیں میں پی ڈی ایف اور آن لائن ورژن کی تیاری پر نبیل حسن نقوی کا بہت مشکور ہوں۔

یہ کتاب منظرنامہ کے سلسلے “ایک بلاگر- ایک کتاب” کا حصہ ہے۔

مندرجہ ذیل ربط پر موجود ای-بک doc فارمیٹ میں ہے اور مکمل searchable ہے۔

“تجدید و احیائے دین” اس ربط سے ڈاؤن لوڈ کیجئے

آن لائن مطالعے یا PDF ورژن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجے

کتاب خوبصورت نستعلیق فونٹ “علوی نستعلیق” میں تیار کی گئی ہے اس لیے مطالعے کے لیے یہی فونٹ انسٹال کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ علوی نستعلیق یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر

  1. احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات گزشتہ چند ماہ سے خالی الذہنی کی کیفیت طاری ہے...
  2. سندھی کی تنصیب پوڙهي ٿئي نه زمين، جهونو ٿئي نه سج هن ٻنيءَ...
  3. ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام قسط 2 ما بعد جدیدیت (Post Modernism) کا چیلنج اور اسلام...

اردو میں انگریزی کی ملاوٹ۔ پی آر آئی کی رپورٹ

پبلک ریڈیو انٹرنیشنل یعنی پی آر آئی کے متعلق میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ آزاد خبروں کے حصول کا ایک بہت اہم ذریعہ ہے. پی آر آئی پر نشر ہونے والا ایک سلسلہ دی ورلڈ کے نام سے مشہور ہے جس میں دنیا بھر کی اہم خبروں کا ایک بہت ہی مفصل جائزہ نشر کیا جاتا ہے۔ آج 18 تاریخ کو ایک بہت ہی دلچسپ رپورٹ اردو میں انگریزی کی ملاوٹ کے حوالے سے نشر کی گئی۔ اس پروگرام کو یہاں سنا جاسکتا ہے اور آخر میں یہ ضرور بیان کریں کہ آیا آپ رپورٹ سے متفق ہیں یا کوئی اور نکتہ نظر رکھتے ہیں۔

Garam Chai ki Piyali Ho…

Garam Chai Ki Piyali
AT work I try different combination when it comes to tea (chai) … just black tea. Tea with 2 heaped teaspoons of coffee in it. Medium colored black tea. Strong cup. Light milky tea. Strong 3-4 tea bags tea. Name it and I’ll give you a new combination of tea everyday.

Thanks god they are not re-hiring me as office boy yet.

When I reach home these days … the after-tea reminds me of so memories from not-so-old-times … a few years down the lane yet they seem so distant and so near. After putting the dinner plate off, bhai would shout for Chai Hojayay. And then we’ll fight daily that who’d do what. That was our ultimate family time. Ami and abu’s half half cups … our full huge mugs of tea. Oh yeah bhai’d make tea too kabhi kabhi. I’ll ask him o do half of teh work … either dum the tea and I’ll mix or do the opposite :P Sometime Ess (my eldest sis) would start blending coffee too. Deep in chilly winters, ami would make pink tea … and honestly that used to be THE yummiest and truest pink tea aka kashmiri chai I ever tasted. The shops sell just pink-colored tea in its name these days. Nothing can compete mom-cookeries ever … love you ama.

Ah ha and how can I forget the gajar ka halwas. Goodness, my mom used to make THE best gajjar ka halwa and gajrella too :) No one can beat that taste. Small things that you don’t even realize then becomes strongest of the memories when nothing remains the same. Nothing.

Winters are nostalgic. Seems like my last winters in my home these would be. Nostalgic with capital N.

چاء ہوئے تے بہت ہوئے پر اپناں دے نال ہوئے

Innit?

دنیا بھر میں آج(19نومبرکو) دائمی تنگی تنفسCOPD کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

دنیا کے 600ملین افراد دائمی تنگی
تنفس کا شکار’ سالانہ تیس لاکھ اموات ہوجاتی ہیں

دنیا بھرمیںاموات کی چوتھی بڑی وجہ دائمی تنگی تنفس ہے:طبی ماہرین

  پھیپھڑوں کے اس مرض کا سب سے بڑا سبب سگریٹ نوشی ہے:ڈاکٹر رفیق بشارت ‘قاضی ایم اے خالد

لاہور(نما ئندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) دنیا بھر میں آج(19نومبرکو) دائمی تنگی تنفسCOPD کا عالمی  دن  منایا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں سینے کے امراض میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دائمی تنگی تنفس دنیا بھرمیںاموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے۔اس مرض میں دنیا کے 600ملین افراد مبتلا ہیں جن میں سے ہرسال تیس لاکھ افرادہلاک ہو جاتے ہیں۔
سانس لینے میں دشواری کی مرضCOPDیعنی دائمی تنگی تنفس ‘پھیپھڑوں کی ایک مرض نہیں بلکہ کئی خطرناک دائمی امراض کے مجموعے کا نام ہے۔اس امر کا اظہار ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن ‘پی جی ایم آئی ‘ڈاکٹر رفیق احمد بشارت اور چیف ایگزیکٹو ہیلتھ پاک وہیلتھ میڈیا کنسلٹنٹ فزیشن قاضی ایم اے خالد نے COPD کے عالمی دن کے حوالے سے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کے دوران کیا ۔
انہوں نے کہا کہ دائمی تنگی تنفس کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی ‘لکڑی ‘کوئلہ ‘اپلوں’کیمیائی مادوں اور گاڑیوں کا دھواں بھی اس مرض کا باعث بن سکتا ہے ۔’‘سی او پی ڈی’‘کی ابتدائی علامات میں سانس کی تنگی ‘مسلسل کھانسی ‘بلغم کا اخراج اوردوران مشقت سانس پھول جاناوغیرہ شامل ہے۔علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض کی حالت دن بہ دن بگڑتی جاتی ہے اور معمول کے کاموں کے دوران بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔اس مرض کی تشخیص پھیپھڑوں کے فنکشن ٹیسٹ ‘’سپرومیٹری’’ سے کی جاتی ہے ۔COPDکی اگر بروقت تشخیص ہو کر علاج شروع ہوجائے تو مریض جلد شفایاب ہوجاتے ہیں۔لیکن اکثر اس سلسلے میں شعور کے فقدان کی وجہ سے بہت سے مریضوں کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب ان کی مرض بہت بڑھ چکی ہوتی ہے۔ لہذادائمی تنگی تنفس سے متعلق عوام الناس میں آگاہی و راہنمائی کی انتہائی ضرورت ہے۔
 

Blood Camp: Invite 1!

blood-camp.jpg

Share/Save/Bookmark

نظم جوگی (خوشی محمد ناظر)

جوگی

نغمۂ حقیقت

کل صبح کے مطلعِ تاباں سے جب عالم بقعۂ نور ہوا
سب چاند ستارے ماند ہوئے، خورشید کا نور ظہور ہوا
مستانہ ہوائے گلشن تھی، جانانہ ادائے گلبن تھی
ہر وادی وادیٔ ایمن تھی، ہر کوہ پہ جلوۂ طور ہوا
جب بادِ صبا مضراب بنی، ہر شاخِ نہال رباب بنی
شمشاد و چنار ستار ہوئے، ہر سرو و سمن طنبور ہوا
سب طائر مل کر گانے لگے، مستانہ وہ تانیں اُڑانے لگے
اشجار بھی وجد میں آنے لگے، گلزار بھی بزمِ سرُور ہوا
سبزے نے بساط بچھائی تھی اور بزمِ نشاط سجائی تھی
بن میں، گلشن میں، آنگن میں، فرشِ سنجاب و سمور ہوا

تھا دل کش منظرِ باغِ جہاں اور چال صبا کی مستانہ
اس حال میں ایک پہاڑی پر جا نکلا ناظر دیوانہ

چیلوں نے جھنڈے گاڑے تھے، پربت پر چھاؤنی چھائی تھی
تھے خیمے ڈیرے بادل کے، کُہرے نے قنات لگائی تھی
یاں برف کے تودے گلتے تھے، چاندی کے فوارے چلتے تھے
چشمے سیماب اگلتے تھے، نالوں نے دھوم مچائی تھی
اک مست قلندر جوگی نے پربت پر ڈیرا ڈالا تھا
تھی راکھ جٹا میں جوگی کی اور انگ بھبوت رمائی تھی
تھا راکھ کا جوگی کا بستر اور راکھ کا پیراہن تن پر
تھی ایک لنگوٹی زیبِ کمر جو گھٹنوں تک لٹکائی تھی
سب خلقِ خدا سے بیگانہ، وہ مست قلندر دیوانہ
بیٹھا تھا جوگی مستانہ، آنکھوں میں مستی چھائی تھی

جوگی سے آنکھیں چار ہوئیں اور جھک کر ہم نے سلام کیا
تیکھے چتون سے جوگی نے تب ناظر سے یہ کلام کیا

کیوں بابا ناحق جوگی کو تم کس لیے آ کے ستاتے ہو؟
ہیں پنکھ پکھیرو بن باسی، تم جال میں ان کو پھنساتے ہو؟
کوئی جگھڑا دال چپاتی کا، کوئی دعویٰ گھوڑے ہاتھی کا
کوئی شکوہ سنگی ساتھی کا، تم ہم کو سنانے آتے ہو؟
ہم حرص ہوا کو چھوڑ چکے، اِس نگری سے منہ موڑ چکے
ہم جو زنجیریں توڑ چکے، تم لا کے وہی پہناتے ہو؟
تم پُوجا کرتے ہو دھن کی، ہم سیوا کرتے ہیں ساجن کی
ہم جوت لگاتے ہیں من کی، تم اُس کو آ کے بجھاتے ہو؟
سنسار سے یاں مُکھ پھیرا ہے، من میں ساجن کا ڈیرا ہے
یاں آنکھ لڑی ہے پیتم سے، تم کس سے آنکھ ملاتے ہو؟

یوں ڈانٹ ڈپٹ کر جوگی نے جب ہم سے یہ ارشاد کیا
سر اُس کے جھکا کر چرنوں پر، جوگی کو ہم نے جواب دیا

ہیں ہم پردیسی سیلانی، یوں آنکھ نہ ہم سے چُرا جوگی
ہم آئے ہیں تیرے درشن کو، چِتون پر میل نہ لا جوگی
آبادی سے منہ پھیرا کیوں؟ جنگل میں کِیا ہے ڈیرا کیوں؟
ہر محفل میں، ہر منزل میں، ہر دل میں ہے نورِ خدا جوگی
کیا مسجد میں، کیا مندر میں، سب جلوہ ہے "وجہُ اللہ" کا
پربت میں، نگر میں، ساگر میں، ہر اُترا ہے ہر جا جوگی
جی شہر میں خوب بہلتا ہے، واں حسن پہ عشق مچلتا ہے
واں پریم کا ساگر چلتا ہے، چل دل کی پیاس بجھا جوگی
واں دل کا غنچہ کِھلتا ہے، گلیوں میں موہن ملتا ہے
چل شہر میں سنکھ بجا جوگی، بازار میں دھونی رما جوگی

پھر جوگی جی بیدار ہوئے، اس چھیڑ نے اتنا کام کیا
پھر عشق کے اِس متوالے نے یہ وحدت کا اِک جام دیا

اِن چکنی چپڑی باتوں سے مت جوگی کو پھسلا بابا
جو آگ بجھائی جتنوں سے پھر اس پہ نہ تیل گرا بابا
ہے شہروں میں غل شور بہت اور کام کرودھ کا زور بہت
بستے ہیں نگر میں چور بہت، سادھوں کی ہے بن میں جا بابا
ہے شہر میں شورشِ نفسانی، جنگل میں ہے جلوہ روحانی
ہے نگری ڈگری کثرت کی، بن وحدت کا دریا بابا
ہم جنگل کے پھل کھاتے ہیں، چشموں سے پیاس بجھاتے ہیں
راجہ کے نہ دوارے جاتے ہیں، پرجا کی نہیں پروا بابا
سر پر آکاش کا منڈل ہے، دھرتی پہ سہانی مخمل ہے
دن کو سورج کی محفل ہے، شب کو تاروں کی سبھا بابا
جب جھوم کے یاں گھن آتے ہیں، مستی کا رنگ جماتے ہیں
چشمے طنبور بجاتے ہیں، گاتی ہے ملار ہوا بابا
جب پنچھی مل کر گاتے ہیں، پیتم کی سندیس سناتے ہیں
سب بن کے برچھ جھک جاتے ہیں، تھم جاتے ہیں دریا بابا
ہے حرص و ہوا کا دھیان تمھیں اور یاد نہیں بھگوان تمھیں
سِل، پتھر، اینٹ، مکان تمھیں دیتے ہیں یہ راہ بھلا بابا
پرماتما کی وہ چاہ نہیں اور روح کو دل میں راہ نہیں
ہر بات میں اپنے مطلب کے تم گھڑ لیتے ہو خدا بابا
تن من کو دھن میں لگاتے ہو، ہرنام کو دل سے بھلاتے ہو
ماٹی میں لعل گنواتے ہو، تم بندۂ حرص و ہوا بابا
دھن دولت آنی جانی ہے، یہ دنیا رام کہانی ہے
یہ عالَم، عالَمِ فانی ہے، باقی ہے ذاتِ خدا بابا

ترانۂ وحدت

جب سے مستانے جوگی کا مشہورِ جہاں افسانہ ہوا
اُس روز سے بندۂ ناظر بھی پھر بزم میں نغمہ سرا نہ ہوا
کبھی منصب و جاہ کی چاٹ رہی، کبھی پیٹ کی پوجا پاٹ رہی
لیکن یہ دل کا کنول نہ کِھلا اور غنچۂ خاطر وا نہ ہوا
کہیں لاگ رہی، کہیں پیت رہی، کبھی ہار رہی، کبھی جیت رہی
اِس کلجگ کی یہی ریت رہی، کوئی بند سے غم کے رہا نہ ہوا
یوں تیس برس جب تیر ہوئے، ہم کارِ جہاں سے سیر ہوئے
تھا عہدِ شباب سرابِ نظر، وہ چشمۂ آبِ بقا نہ ہوا
پھر شہر سے جی اکتانے لگا، پھر شوق مہار اٹھانے لگا
پھر جوگی جی کے درشن کو ناظر اک روز روانہ ہوا

کچھ روز میں ناظر جا پہنچا پھر ہوش رُبا نظّاروں میں
پنجاب کے گرد غباروں سے کشمیر کے باغ بہاروں میں
پھر بن باسی بیراگی کا ہر سمت سراغ لگانے لگا
بنہال کے بھیانک غاروں میں، پنجال کی کالی دھاروں میں
اپنا تو زمانہ بیت گیا، سرکاروں میں درباروں میں
پر جوگی میرا شیر رہا پربت کی سونی غاروں میں
وہ دن کو ٹہلتا پھرتا تھا ان قدرت کے گلزاروں میں
اور رات کو محوِ تماشہ تھا انبر کے چمکتے تاروں میں
برفاب کا تھا اک تال یہاں یا چاندی کا تھا تھال یہاں
الماس جڑا تھا زمُرّد میں، یہ تال نہ تھا کہساروں میں
تالاب کے ایک کنارے پر یہ بن کا راجہ بیٹھا تھا
تھی فوج کھڑی دیوداروں کی، ہر سمت بلند حصاروں میں
یاں سبزہ و گل کا نظارہ تھا اور منظر پیارا پیارا تھا
پھولوں کا تخت اتارا تھا، پریوں نے ان کہساروں میں
یاں بادِ سحر جب آتی تھی، بھیروں کا ٹھاٹھ جماتی تھی
تالاب رباب بجاتا تھا، لہروں کے تڑپتے تاروں میں
کیا مستِ الست نوائیں تھیں ان قدرت کے مِزماروں میں
ملہار کا روپ تھا چشموں میں، سارنگ کا رنگ فواروں میں
جب جوگی جوشِ وحدت میں ہرنام کی ضرب لگاتا تھا
اک گونج سی چکّر کھاتی تھی، کہساروں کی دیواروں میں

اس عشق و ہوا کی مستی سے جب جوگی کچھ ہشیار ہوا
اس خاک نشیں کی خدمت میں یوں ناظر عرض گزار ہوا

کل رشکِ چمن تھی خاکِ وطن، ہے آج وہ دشتِ بلا جوگی
وہ رشتۂ اُلفت ٹوٹ گیا، کوئی تسمہ لگا نہ رہا جوگی
برباد بہت سے گھرانے ہوئے، آباد ہیں بندی خانے ہوئے
شہروں میں ہے شور بپا جوگی، گاؤں میں ہے آہ و بکا جوگی
وہ جوشِ جنوں کے زور ہوئے، انسان بھی ڈنگر ڈھور ہوئے
بچوں کا ہے قتل روا جوگی، بوڑھوں کا ہے خون ہَبا جوگی
یہ مسجد میں اور مندر میں، ہر روز تنازع کیسا ہے؟
پرمیشر ہے جو ہندو کا، مسلم کا وہی ہے خدا جوگی
کاشی کا وہ چاہنے والا ہے، یہ مکّے کا متوالا ہے
چھاتی سے تو بھارت ماتا کی دونوں نے ہے دودھ پیا جوگی
ہے دیس میں ایسی پھوٹ پڑی، اک قہر کی بجلی ٹوٹ پڑی
روٹھے متروں کو منا جوگی، بچھڑے بِیروں کو ملا جوگی
کوئی گرتا ہے، کوئی چلتا ہے، گرتوں کو کوئی کچلتا ہے
سب کو اک چال چلا جوگی، اور ایک ڈگر پر لا جوگی
وہ میکدہ ہی باقی نہ رہا، وہ خم نہ رہا، ساقی نہ رہا
پھر عشق کا جام پلا جوگی، یہ لاگ کی آگ بجھا جوگی
پربت کے نہ سوکھے روکھوں کو یہ پریم کے گیت سنا جوگی
یہ مست ترانہ وحدت کا چل دیس کی دھن میں گا جوگی
بھگتوں کے قدم جب آتے ہیں، کلجُگ کے کلیش مٹاتے ہیں
تھم جاتا ہے سیلِ بلا جوگی، رک جاتا ہے تیرِ قضا جوگی

ناظر نے جو یہ افسانۂ غم رُودادِ وطن کا یاد کیا
جوگی نے ٹھنڈی سانس بھری اور ناظر سے ارشاد کیا

بابا ہم جوگی بن باسی، جنگل کے رہنے والے ہیں
اس بن میں ڈیرے ڈالے ہیں، جب تک یہ بن ہریالے ہیں
اس کام کرودھ کے دھارے سے ہم ناؤ بچا کر چلتے ہیں
جاتے یاں منہ میں مگر مچھ کے، دریا کے نہانے والے ہیں
ہے دیس میں شور پکار بہت اور جھوٹ کا ہے پرچار بہت
واں راہ دکھانے والے بھی بے راہ چلانے والے ہیں
کچھ لالچ لوبھ کے بندے ہیں، کچھ مکر فریب کے پھندے ہیں
مورکھ کو پھنسانے والے ہیں، یہ سب مکڑی کے جالے ہیں
جو دیس میں آگ لگاتے ہیں، پھر اُس پر تیل گراتے ہیں
یہ سب دوزخ کا ایندھن ہیں اور نرگ کے سب یہ نوالے ہیں
بھارت کے پیارے پُوتوں کا جو خون بہانے والے ہیں
کل چھاؤں میں جس کی بیٹھیں گے، وہی پیڑ گرانے والے ہیں
جو خون خرابا کرتے ہیں، آپس میں کٹ کٹ مرتے ہیں
یہ بیر بہادر بھارت کو، غیروں سے چھڑانے والے ہیں؟
جو دھرم کی جڑ کو کھودیں گے، بھارت کی ناؤ ڈبو دیں گے
یہ دیس کو ڈسنے والے ہیں، جو سانپ بغل میں پالے ہیں
جو جیو کی رکھشا کرتے ہیں اور خوفِ خدا سے ڈرتے ہیں
بھگوان کو بھانے والے ہیں، ایشور کو رجھانے والے ہیں
دنیا کا ہے سُرجن ہار وہی، معبود وہی، مختار وہی
یہ کعبہ، کلیسا، بت خانہ، سب ڈول اسی نے ڈالے ہیں
وہ سب کا پالن ہارا ہے، یہ کنبہ اسی کا سارا ہے
یہ پیلے ہیں یا کالے ہیں، سب پیار سے اس نے پالے ہیں
کوئی ہندی ہو کہ حجازی ہو، کوئی ترکی ہو یا تازی ہو
جب نیر پیا اک ماتا کا، سب ایک گھرانے والے ہیں
سب ایک ہی گت پر ناچیں گے، سب ایک ہی راگ الاپں گے
کل شام کھنّیا پھر بن میں مرلی کو بجانے والے ہیں
آکاش کے نیلے گنبد سے یہ گونج سنائی دیتی ہے
اپنوں کے مٹانے والوں کو کل غیر مٹانے والے ہیں
یہ پریم سندیسہ جوگی کا پہنچا دو ان مہاپرشوں کو
سودے میں جو بھارت ماتا کے تن من کے لگانے والے ہیں
پرماتما کے وہ پیارے ہیں اور دیس کے چاند ستارے ہیں
اندھیر نگر میں وحدت کی جو جوت جگانے والے ہیں
ناظر یہیں تم بھی آ بیٹھو اور بن میں دھونی رما بیٹھو
شہروں میں گُرو پھر چیلوں کو کوئی ناچ نچانے والے ہیں

شاعر: خوشی محمد ناظر

بشکریہ صریرِ خامۂ وارث

Flowers are Red!! Zain Bhikha

Just loving it :)

Flowers are Red!!

(watch on youtube)

(Originalyl sung by Harry Chapin)

The little boy went first day of school
He got some crayons and started to draw
He put colors all over the paper
For colors was what he saw
And the teacher said.. What you doin’ young man
I’m paintin’ flowers he said
She said… It’s not the time for art young man
And anyway flowers are